ابنا: شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں نت نئے روپ بدل کر ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے میدان میں ہیں ، جب تک نام بدل کر کام کرنےوالی کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر ان کے دفاتر سر بمہر نہیں کیے جاتے ، سرزمین وطن پر پائیدار امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ آج شیطانی ہاتھوں نے ایک بار پھر انسانیت پر حملہ کیا، گزشتہ تیس برسوں سے یہ ملک شیعان حیدر کرار کے لیے مقتل بنا ہوا ہے، چند روز قبل اس ملک کے غداروں نے اپنے چہرے پر دفاع پاکستان کی نئی نقاب ڈال کر جلسہ کیا ، یہ وہی غدار ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران پاکستان کو کافرستان اور قائداعظم کو کافراعظم کہا تھا، یہ وہ غدار ہیں جنہوں نے 1980 میں اس ملک کودہشت گردی کی دلدل میں دھکیلا ۔ امریکہ کے دستر خوان پر پلنے والے یہ لوگ پاکستان میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں ،
یہ دنیا کی ہر طاقت سے بچ سکتے ہیں لیکن ان حسینیوں سے نہیں چھپ سکتے جن کے پیشوانے کربلا میں یزید کے چہرے سے نقاب ہٹا کر اسے ایسا رسوا کیا کہ آج بھی اس کی روح تڑپ رہی ہے ، حسینیوں نے قیامت تک کے لیے یزیدیت کے گلے میں لعنت کا طوق پہنا دیا ، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں ہے،ایک تھپڑ پر از خود نوٹس لینے والی عدالت کہاں سو رہی ہے؟کیا مستونگ میں انسانیت کا قتل نہیں تھا ، کوہستان میں مسافروں کو بسوں سے اتار کر مارنا انسانیت کا قتل نہیں تھا ، بلوچستان میں مسلسل ملت تشیع کی نسل کشی کیا انسانیت کا قتل نہیں ، کراچی میں ہر روز گرنے والی مومنین کی لاشیں کیا انسانیت کا قتل نہیںہیں ، مگر انہیں بتانے والا کوئی نہیں ، یہ ان کے لیے کام کر رہے ہیں جنہوں نے ان کے لیے تحریکیں چلائیں ، علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ آزاد صرف جج ہوئے ہیں عدلیہ آزاد نہیں ہوئی ، عدلیہ اب بھی قید ہو ، وہی دیکھتی ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے، پاکستان کو دہشت گردوں نے کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ، لیکن پھر بھی جج دہشت گردوں کو رہا کر رہے ہیں ۔
.......
/169